جہاں ایک طرف ڈاکٹرز پلاسٹک بیگ پہن کر کروناوائرس کا علاج کر رہےہیں۔دوسری طرف حکومت سوکروڑ ٹائیگرفورس کی سرٹس پر خرچ کررہی ہے

کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی کٹس نہ فراہم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے سول اسپتال میں میڈیکل سپرینٹنڈنٹ اور ڈپٹی میڈیکل سپرینٹنڈنٹ کے دفاتر کو تالے لگا دیئے۔

ینگ ڈاکٹرز  ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر ز کورونا میں مبتلا ہو رہے ہیں مگر ہمیں کورونا سے بچاؤ کی کٹس فراہم نہیں کی جا رہیں۔

انہوں نے کہا کہ طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے بجائے سول اسپتال سے ہمارے ڈاکٹروں کو تبدیل کیا جا رہا ہے، اس صورتحال پر ہم نے سول اسپتال میں ایم ایس اور ڈپٹی ایم ایس کے دفاتر کو تالہ لگا دیا ہے۔

ادھر میڈیکل سپر ٹنڈنٹ ڈاکٹر فضل الرحمٰن بگٹی نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز بلیک میلنگ کر رہے ہیں، ان کے ڈاکٹرز ڈیوٹی پر نہیں آتے، جب ڈیوٹی مانگوں تو یہ دفاتر کو تالے لگا دیتے ہیں۔

سپر ینٹنڈنٹ او ڈپٹی سپرٹنڈنٹ نے تحفظ فراہم کیے جانے تک فرائض کی انجام دیہی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرے گی ہم کام نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب نے بھی یہی شکایت کی تھی کہ صوبے میں 9 ڈاکٹرز اور 5 نرسز کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں، متعدد دیگر ڈاکٹروں کی رپورٹس کا بھی انتظار ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے اسپتالوں میں حفاظتی لباس کی کمی کا سامنا ہے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of
Share via
Copy link
Powered by Social Snap
%d bloggers like this: